اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیر دفاع نے جو ہمیشہ، فلسطینیوں کی نسل کشی اسرائیل کا ساتھ دینے پر امریکہ کی سرزنش کرتے رہے ہیں، ایران کے اندرونی معاملات میں واشنگٹن کی مداخلت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے جرائم بند کرانے کے لیے حقیقی معنوں میں مداخلت کریں۔
خطے میں امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کرنے والے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایران کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوغلے رویے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔
انہوں نے کنائے کے ذریعے امن اور جنگوں کے خاتمے کے حوالے سے ٹرمپ کے دوغلے رویئے پر تنقید کرتے ہوئے اپنے ایکس پیغام میں لکھا کہ امریکی صدر کچھ مداخلت غزہ میں بھی کریں تاکہ فلسطینیوں کیا قتل عام بند کرایا جاسکے۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ ساری دنیا فلسطینیوں کی نسل اور اسرائیلی جارحیت پر ہم آواز ہے لیکن مداخلت اور جرائم روکنے کے بجائے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی اور غز میں قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر دفاع نے صیہونی حکومت کو دنیا کی سب سے قابل نفرت اور تاریخ کی مجرم ترین حکومت قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ تھا کہ ہوسکتا ہے امریکہ نیتن یاھو کے دھوکے میں آگیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایران مخالف اقدامات میں دونوں کا ہاتھ ہو۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم مسلسل ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں دروغگوئی سے کام لیتے آرہے ہیں تاکہ تہران کے خلاف جارحیت کا جواز تراشا جاسکے۔
آپ کا تبصرہ